قُربِ رسولِ پاک کا زینہ ہے کربلا
ارشد مرے لیے تو مدینہ ہے کربلا
اس میں غمِ حسین کا پیہم قیام ہے
زخموں سے چور چور یہ سینہ ہے کربلا
جو اس میں ہے سوار وہی کامیاب ہے
اے دوست! برّیت کا سفینہ ہے کربلا
تیرہ و تار جگ کو چمک اس سے ہے ملی
خاتم ہے یہ جہاں تو نگینہ ہے کربلا
اک غم کی کیفیت ہی یہاں پائیدار ہے
اور اس کا لازوال خزینہ ہے کربلا
اکسیر اس کی خاک شہیدوں کے خون سے
ہر درد کی شفا کا دفینہ ہے کربلا
دو جگ میں جو فلاح کی روشن سبیل ہے
اک ایسا بندگی کا قرینہ ہے کربلا
Related posts
-
سعود عثمانی
دہکتی خاک پہ بادل بچھا دیا کس نے پڑی ہے تپتی ہوئی ریت پر ردائےحسین -
اختر عثمان ۔۔۔ فاقہ ہے بہت دِن سے بہت پیاس ہے عبّاس !
فاقہ ہے بہت دِن سے بہت پیاس ہے عبّاس ! لوٹ آؤ ، سکینہ کو ابھی... -
سلام بحضور امامِ عالی مقام ۔۔۔ شکیل جاذب
سلام بحضور امامِ عالی مقام بس کُشتگانِ راہِ ابد گیر کر گئے دشتِ بلا کی خاک...
